ہم سے رابطہ کیجیئے    پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   فارسي   انگليسي   العربيه  


صالحی امیری: ایران کی ثقافتی حیات کی بقاء قرآن مجید میں مضمر ہے


ایرانی وزیر ثقافت نے ایرانی ثقافت اور پہچان کو قرآن میں پوشیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تین عشروں پر محیط قرآنی مقابلوں کا پیغام یہی ہے کہ قرآن کے بغیر ہدایت مشکل ہے
تہران میں جاری چونتیسویں بین الاقوامی قرآنی مقابلون سے خطاب میں ایرانی وزیر ثقافت سیدرضا صالحی امیری نے خطاب میں کہا: ہمارے انقلاب کا آغاز قرآن مجید سے ہوا ہے اور امام خمینی نے اسی کتاب سے درس لیکر انقلاب لایا۔

ان کا کہنا تھا: اس قرآنی انقلاب کے بدولت ہماری ثقافتی پہچان اور حیات قرآن اور تعلیمات اہل بیت سے وابستہ ہے جبکہ قرآن مجید کے بغیر صرف گمراہی کا راستہ باقی بچ جاتا ہے

صالحی امیری نے مقابلوں کے حوالے سے کہا کہ اچھی قرآنی صلاحیتوں اور قرآء کو متعار کرانے کے علاوہ قرآنی تدبر بھی ان مقابلوں کا اہم مقصد ہے جیسے کہ مقام معظم رهبری بھی اس نکتے پر بارہا تاکید فرما چکے ہیں۔


وزیر ثقافت نے وزارت اوقاف کی قرآنی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران میں ۵ هزار قرآنی ادارے قرآنی تعلیمات کی ترویج میں مصروف عمل ہیں۔

صالحی امیری نے کہا کہ ہمارے انقلاب اور کامیابی کا راستہ قرآنی تعلیمات پر عمل سے وابستہ ہے اور امام خمینی کی تعلیمات بھی قرآن پر عمل پر تاکید کرتی ہیں۔


وزیر ثقافت نے خطاب کے آخر میں قرآنی مقابلوں میں جونیر طالب علموں اور خواتین کے شعبوں کے اضافے کو خوش آیند قرار دیتے ہوئے کہا : ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تمام سال کے دنوں کو قرآنی ایام سمجھیں اور یقین رکھنا چاہیے کہ قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کو ہی سکون اور شفاعت مل سکتی ہے اور یہی راہ مستقیم ہے۔
نیوز کوڈ:39674
ماخذ:iqna.ir
تاریخ:22/04/2017