ہم سے رابطہ کیجیئے    پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   فارسي   انگليسي   العربيه  


ایرانی شیعہ عالم دین :

موجودہ دنیا میں نہج البلاغہ تشیع کا ثقافتی اور تمدنی سرمایہ ہے


حوزہ علمیہ اصفہان کےاستاد اورہلال احمر میں ولی فقیہ کےجانشین نے کہا ہے کہ نہج البلاغہ ...
 تشیع کا نظریاتی اورتمدنی سرمایہ ہے کہ جسے ایک اخلاقی کتاب کی حالت سے باہرنکل کر ایک پریکٹیکل کتاب میں تبدیل ہونا چاہیے کیونکہ اس میں ہرشیعہ کے لیےایک نظریاتی اورتمدنی پروگرام موجود ہے۔

عالمی اردو خبر رساں ادارے ’’نیوز نور ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق اصفہان کے دینی مدرسہ کوثرمیں ’موجودہ دنیا میں نہج البلاغہ تشیع کا ایک ثقافتی اورتمدنی سرمایہ‘ کے موضوع پرایک علمی نشست سے حوزہ علمیہ اصفہان کےاستاد اورہلال احمر میں ولی فقیہ کےجانشین ’’حجت الاسلام احمد فعال ‘‘ نے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ ہرقسم کی سرگرمی کے لیے سرمائے کی ضرورت ہے، معاشی سرمایہ، معاشی سرگرمیوں میں داخل ہونےکا پرمٹ ہے۔ اسی طرح ثقافتی اورتمدنی سرمایہ بھی ثقافتی سرگرمیوں میں داخل ہونےکا پرمٹ ہے اوریہ ہماری سرگرمیوں کو مشخص کرتا ہے۔  

انہوں نے کہا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ نہج البلاغہ، تشیع کا ثقافتی اورتمدنی سرمایہ ہے تو اس وقت نہج البلاغہ ایک اخلاقی کتاب سےنکل کرایک پریکیٹکل کتاب میں تبدیل ہوجاتا ہے اوراس میں ہرشیعہ کے لیےایک نظریاتی اورتمدنی پروگرام موجود ہے کہ جو آج کے تمدن سے کہیں زیادہ وسعت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  نہج البلاغہ کی حکمت نمبر۳۱ کے مطابق ایمان کے چارستون ہیں صبر،یقین، جہاد اورعدل۔ یقین کے چاراورستون ہیں بصیرت، حکمت، وعظ ونصیحت اورسنت۔

موصوف استاد نے کہا کہ  نہج البلاغہ نے مختلف میدانوں میں علوم کا تجزیہ وتحلیل کیا ہے اوران علوم میں سے ایک تربیتی علوم ہیں کہ جس کا ایک نمونہ امام علی علیہ السلام کا امام حسن علیہ السلام کے نام خط ہےکہ  جس کا مطالعہ کرنے سے انسان اپنی اولاد کی تربیت کرنے کے اصولوں سے آگاہ ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح امیرالمومنین علیہ السلام نےمالک اشترکے نام خط میں معاشی موضوعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہےکہ اے مالک پہلے ملک کو آباد کرو اس کے بعد ٹیکسز پرتوجہ دو۔

حجت الاسلام احمد فعال نے مزید کہا  کہ نہج البلاغہ میں شناخت انسان کی بے مثال بحثیں موجود ہیں اور پروفیسرفلاطوری نے ہیومینیٹز میں نہج البلاغہ کی صلاحیتیں کے موضوع پرایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کے ذریعے کئی گھڑیاں بلکہ کئی صدیاں گفتگو کی جاسکتی ہے لہذا ہمیں ایک علمی نقطہ نظرکے تحت قرآن کریم، نہج البلاغہ اورصحیفہ سجادیہ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
نیوز کوڈ:39690
ماخذ:نیوز نور
تاریخ:4/23/2017