ہم سے رابطہ کیجیئے    پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   فارسي   انگليسي   العربيه  


امام خمینی کی ایران آمد اور آیت اللہ خامنہ ای کا دورہ پاکستان

«ایران، جانِ پاکستان»ــ‌ـ 8
28 سال پہلے ایران کے صدر حضرت آیت اللہ خامنہ ای کا دورہ پاکستان، ہر پاکستانی کو ضرور یاد ہے کیونکہ اس دن بہت سارے لوگ ایران سے آئے ہوئے روحانی لباس میں ملبوس بزرگ شخصیت کو اپنے درمیان دیکھ کر حواس باختہ جو ہوگئے تھے۔کوئی شک نہیں کہ ہر پاکستانی ان کو اچھی طرح سے جانتاہ ہے لہٰذا ہر کوئی ان کے دیدار کا خواہش دل میں لئے قافلے کی طرف دوڑ رہا ہوتا ہے۔

28 سال پہلے نہایت سرد موسم یعنی دسمبر کے مہینے میں اسلامی جمہوری ایران کے صدر حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے پاکستان کا دورہ کیا جن کے استقبال کے لئے ہزاروں پاکستانی ملک کے مختلف علاقوں سے لاہور پہنچ گئے اور بھیڑ کی وجہ سے قدم رکھنے کہ جگہ تک نا تھی اور ایرانی صدر کی گاڑی پاکستانیوں کی جھرمٹ میں مکمل طور پر پھنس کر رہ گئی تھی، ہرکسی کی خواہش تھی کہ قریب سے آیت اللہ خامنہ ای کا دیدار کرسکے۔

لاہور میں اس وقت کے ایرانی کلچر ہاؤس کے ڈائریکٹر عباس فاموری لاہور کی کچھ عمر رسیدہ خواتین کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بہت ساری خواتین لاہور کے دور دراز دیہاتوں سے  پیدل، چالیس کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کرکے لاہور پہنچ گئیں تھیں تاکہ آیت اللہ خامنہ ای کا نزدیک سے دیدار کر سکےں۔

فاموری کا کہنا ہے کہ عمر رسیدہ خواتین پیدل چل چل کر اس قدر تھک چکی تھیں کہ ان میں سے بعض راستے میں ہی ماند پڑ جاتیں ہیں اور دوسری خواتین سے التماس کرتی ہیں کہ جب آیت اللہ خامنہ ای کا دیدار ہوجائے تو دعا و سلام پہنچائیں۔

اس وقت کےصدارتی ذرائع ابلاغ کے سربراہ ہاشم طالب زادہ آیت اللہ خامنہ ای کے دورہ پاکستان کے بارے میں کہتے ہیں کہ جب ایرانی صدر نے پاکستانی سرزمین پر قدم رکھے تو عجیب و غریب اتفاقات رونما ہوئے، ہمیں خود بڑا تعجب ہوا حتیٰ کہ پاکستانی صدر ضیاءالحق جو ایرانی صدر کے قافلے میں شامل تھے، اپنے آپ کو ہزاروں لوگوں کی بھیڑ کے درمیان پاکر پریشان حال ہوگئے تھے۔

ایرانی صدر کے ساتھ ضیاءالحق کو علامہ اقبال کے مزار تک جانا تھا۔ راستے میں ہزاروں لوگ لیبک یا امام کے نعرے لگا رہے تھے اور حکومت پاکستان نے مزار علامہ اقبال تک پہنچنے کے لئے 45 منٹ کا تخمینہ لگایا تھا تاہم لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے 4گھنٹے سے بھی زیادہ کا وقت لگا اور ضیاءالحق دیکھتے ہی رہ گئے۔

اس دن پاکستانی عوام بغیر کسی تبلیغ اور پیشگی اطلاع کے سیلاب کی طرح آیت اللہ خامنہ ای کی استقبال کے لئے پہنچ گئے تھے۔

لاہور میں حضرت آیت اللہ خامنہ ای کا استقبال اسی طرح ہوا جس طرح تہران میں پیرس سے امام خمینی کے آمد پر ہوا تھا۔

15کلومیٹر کے فاصلے تک لوگوں کی بھیڑ تھی لوگ نعرے لگاتے ہوئے صدر کی گاڑی کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا رہے تھے یہ سماں دیکھ کر ہر کوئی حیران ہو رہا تھا کہ آج پاکستان میں کیا ہونے جارہا ہے۔

ایرانی صدر کا استقبال دیکھ کر پاکستانی حکام دنگ رہ گئے تھے۔

حضرت آیت اللہ امام خامنہ ای کا دورہ پاکستان کی کچھ تصاویر ملاحظہ کیجئے:

25 سال بعد اسلامی جمہوری پاکستان سیلاب سے سخت متاثر ہوتا ہے اور عوام بدترین سیلاب کی وجہ سے طرح طرح کی مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں تو یہی صدر اب اسلامی جمہوری ایران کے رہبر اعلیٰ کے منصب پر فائز ہیں اور پاکستانی عوام کو سیلاب کے ریلوں تلے دبتے دیکھ کر نم دیدہ ہو جاتے ہیں اور ایرانی حکومت کو حکم دیتے ہیں کہ پاکستانی قوم کی مدد کے لئے جلد پہنچ جائے۔

واضح رہے کہ آیت اللہ امام خامنہ ای نے فرمایا تھا کہ ہماری امداد کا حجم جتنا بھی زیادہ ہو وہ پاکستانی عوام کی نہایت زیادہ ضرورت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے لیکن ان دشوار اور مشکل حالات میں ہمیں چاہیے کہ ہم اسلامی اخوت و برادری کی بنیاد پر اپنی ذمہ داری پر عمل کرتے ہوئے اپنے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لئے آگے بڑھیں۔ اسلامی ممالک اور بین الاقوامی اداروں کو اس اہم نکتے پر توجہ مبذول کرنی چاہیے کہ وہ پاکستانی حکومت کو امداد رسانی اور اس عظیم مشکل کے طویل المدت اثرات پر قابو پانے کے سلسلے میں اپنا تعاون پیش کریں۔ یقینی طور پر ہنگامی حالات میں ایسی مشکل پر قابو پانے کے لئے ہر حکومت مکمل طور پر اور ہر لحاظ سے امداد رسانی کے کام میں مشکلات سے دوچار ہو جاتی ہے۔

سیلاب کے دوران ایرانی سپریم لیڈر کے حکم سے پاکستان میں سب سے پہلے امداد پہنچائی گئی اور ملک کے مختلف علاقوں کے زخمیوں اور بیماروں کے علاج معالجے کے لئے صحرائی ہستپال قائم کئے گئے جن سے ہزاروں پاکستانیوں نے بخوبی استفادہ کیا۔

قارئین و صارفین کرام خصوصی دستاویزی رپورٹ "ایران، جان پاکستان" کی شائع شدہ قسطیں مندرجہ ذیل لنکس پر کلک کرکے مشاہدہ کرسکتے ہیں:

«فرهنگ، سیاست، اسلامی جمہوریہ»/ خصوصی دستاویزی رپورٹ «ایران، جانِ پاکستان»ــ1 » ہمالیا کے کسی قھوہ خانے میں امام خمینی کی تصویر سے لیکر خرمشہر کی آزادی کےلئے روزوں کی منت تک۔

خصوصی دستاویزی رپورٹ «ایران، جانِ پاکستان»ــ2 » ہم پاکستان میں بھی ایک "خمینی" چاہتے ہیں۔

خصوصی دستاویزی رپورٹ «ایران، جانِ پاکستان»ــ3 » ایران کے ثقافتی انقلاب کے فروغ کا بوجھ ایک 22 سالہ پاکستانی کے کندھوں پر/ «سلحشور» پاکستان میں ایرانی ثقافت کے سپاہی۔

خصوصی دستاویزی رپورٹ «ایران، جانِ پاکستان»-4 » پاکستان کے مسلمان ایران کے ساتھ زندہ ہیں/ ہمارا عقیدہ ہے کہ "اگر ایران نہ ہو تو ہم بھی نہ رہیں گے"۔

خصوصی دستاویزی رپورٹ «ایران، جانِ پاکستان»-5 » جنگ کے دوران ایران کے لئے پاکستانی خواتین کے زیورات کے عطیے۔

خصوصی دستاویزی رپورٹ «ایران، جانِ پاکستان»-6 » پاکستان میں فارسی زبان/ ہم جہاں جاتے ہیں وہاں فارسی ضرور پاتے ہیں۔

ثقافت، سیاست ، اسلامی جمہوریہ/ خصوصی دستاویزی رپورٹ/ «ایران، جانِ پاکستان»-7 ایران نے پاکستانیوں کے دل جیت لئے ہیں، رئیس‌السادات۔
كد خبر تصويري:7896
منبع خبر :تسنیم نیوز ایجنسی
تاريخ خبر:11/12/2016