ہم سے رابطہ کیجیئے    پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   فارسي   انگليسي   العربيه  


ایرانی ثقافت میں " شب یلدا "

ایرانی ثقافت میں " شب یلدا " ( حصہ دوّم )
شب یلدا کے پهل
بعض اسلامی مآخذ  کے مطابق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دراصل  " شب یلدا " وہی  رات ہے  جب حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی  اور یوں اس رات کو "  شب میلاد مسیح  " بھی سمجھا جاتا ہے ۔  ثعالبی اس حوالے سے لکھتا ہے کہ
 
" شب میلاد ،  وہی  رات ہے ،  جس رات کو حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی اور اس رات کو بطور مثال سب سے لمبی رات کے پیش کیا جاتا ہے "
 
اس سے یہ بات بھی سامنے آتی  ہے کہ  " میلاد " اور  " یلدا " دراصل  ایک ہی رات کو کہا جاتا ہے جو سال کی سب سے لمبی رات ہوتی ہے ۔   " یلدا " سریانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی پیدائش کے ہیں اور  اس لفظ کے مترادف لفظ جو عربی زبان میں رائج ہے وہ " میلاد " ہے ۔   بعض فارسی شعراء نے بھی  اپنی شاعری میں "شب یلدا " اور " میلاد حضرت مسیح " کو   جوڑ کر بیان کیا ہے ۔ مثال  کے طور پر معزی  کہتے ہیں کہ
 
ایزد دادار ، مھر و کین تو گوئی 
 
از شب قدر آفرید و از شب یلدا
 
زان کہ بہ مھرت بود تقریب مومن
 
زان کہ بہ کیفیت بود تفاخر ترسا
 
شب یلدا کی رات چونکہ لمبی ہوتی ہے اس لیۓ بہت سے شعراء نے اس کے طویل ہونے کو محبوب کے ہجر کے  دورانیے کے طویل ہونے سے تشبیہ دے کر شاعری میں نیا رنگ بھرا ہے تو بعض نے اس رات کی سیاہی کو اپنے محبوب کی سیاہ زلف سے تشبیہ  دی ہے ۔  مثال کے طور پر
 
ما حال خویش بی سرو پا نوشتہ ام
 
روز فراق را شب یلدا نوشتہ ام
 
بہ آن سینہ ھمچو صبح بہار
 
بہ آن زلف چون شام یلدا قسم
 
بہت سے قدیم شاعروں نے بھی اپنے کلام  میں " شب یلدا " کا ذکر کیا ہے یا اس لفظ کو اپنی شاعری میں استعمال کیا ہے جس سے ہمیں اس کی قدمت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر عنصری کا ایک شعر ہے کہ
 
نور رویش تیرہ شب را روز نورانی کند
 
در دو چشمش روز روشن را شب یلدا کند
 
اسی طرح ناصر خسرو  اپنے ایک شعر میں کہتا ہے کہ
 
بہ صاحب دولتی پیوند اگر نامی ھمی جویی
 
کہ از یک چاکری عیسی چنان معروف شد یلدا
 
حکیم سنائی ایک شعر میں کچھ یوں گویا ہیں :
 
ھمہ شب ھای غم آبستن روز طرب است
 
یوسف روز بہ چاہ شب یلدا  بینید
 
شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں
 
روز پھلوی شب  یلدا زند 
 
خویش را امروز بہ فردا زند
كد خبر تصويري:8480
منبع خبر :tebyan& ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل
تاريخ خبر:12/19/2017