ہم سے رابطہ کیجیئے    پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   فارسي   انگليسي   العربيه  


ثقافت، وقت کی ایک پلیٹ فارم پر بنائی جاتی ہے- ثقافت اور تہذیب ایک ہی قسم کی دو چیزیں ہیں؛ ڈاکٹر سعیدرضا عاملی

ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کے محترم سیکرٹری کے خیالات سے زیادہ واقف ہونے کے لیے "نامہ شورا" نامی میگزین کے 106 اور 107 نمبروں کے تحت(بتاریخ می اور جون 2017) شائع شدہ گفتگو کا ایک مختصر حصہ

ثقافت، وقت کی ایک پلیٹ فارم پر بنائی جاتی ہے- ثقافت اور تہذیب ایک ہی قسم کی دو چیزیں ہیں؛ ڈاکٹر سعیدرضا عاملی
 
ڈاکٹر سعیدرضا عاملی مواصلات، سائبر اسپیس اور گلوبلائزیشن کے شاخوں میں سب سے بڑے اساتذے اور محققین میں سے ایک ہیں- وہ تہران یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے شعبہ مواصلات کے ایک مکمل پروفیسر(Full Professor) کی حیثیت رکھتے ہیں اور مذکورہ شاخوں میں ان کی بہت سی کتابیں انگریزی اور فارسی زبانوں میں شائع ہوچکی ہیں- ڈاکٹر عاملی ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کے حالیہ اجلاس میں اس کونسل کے ممبروں کی ووٹوں کے ساتھ  سیکرٹری  کے طور پر منتخب ہوگئے، پھر رہبر معظم انقلاب اسلامی (مدظلہ العالی) کی توثیق اور صدر مملکت (ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کے محترم صدر)کے تقرری حکم کے بعد انہیں "ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کا سیکرٹری" مقرر کردیا گیا- اعلی کونسل کا اردو سائٹ سینٹر، ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کے محترم سیکرٹری کے خیالات سے زیادہ واقف ہونے کے لیے "نامہ شورا" نامی میگزین کے 106 اور 107 نمبروں کے تحت(بتاریخ می اور جون 2017) شائع شدہ گفتگو کا ایک مختصر حصہ پیش کرتاہے:  
ثقافت کی تعریف تاریخ کے مختلف ادوار میں بدل گئی ہے اور یہ شاید مختلف وجوہات میں سے ایک ہے جو ہم ثقافت کی بہت سی تعریفات سے مواجہ ہیں-  ثقافت کی تعریف کی تبدیلی کی ایک وجہ یہ ہے کہ ثقافت کے ماہرین کے بقول، ثقافت وہ چیز ہے جو ہم اس کے ساتھ رہتے ہیں- ثقافت کی خصوصیات میں سے ایک، تسلسل ہے- ثقافت ایک دفعی الظہور واقعہ اور مظہر نہیں ہے- یعنی ایک ایسا امر نہیں جو اچانک پیدا ہوجاتا یا مثلا ایک سماجی گروپ  کے ذریعے ظاہر ہو کر اسے ثقافت کا نام دے دیاجائے- بلکہ ثقافت مسلسل ادوار میں بنائی جاتی ہے- دوسرے الفاظ میں یہ کہاجاسکتاہے کہ ثقافت اور تہذیب ایک ہی قسم میں شامل ہیں- میرے خیال میں ثقافت تہذیب کا ایک زندہ طول و عرض ہے- تہذیب بھی زندہ ہے مگر ثقافت وہ چیز ہے جس سے آج  ہم زندگی گزارتے ہیں اور کل تہذیب بنے گی کیونکہ تہذیب ایک پرانا معاملہ ہے-
ثقافت کی دوسری خصوصیت تمایز اور تفاوت ہے- ثقافت میں ایسے عناصر کی لازمی ہے جو ایک ثقافت کو دوسری ثقافت سے الگ کرسکتے ہیں- تمایز اور تنازعات میں بہت سے عوامل اور ذرائع موجود ہیں جن میں سے بعض زیادہ اہم ہیں- ان جیسے عوامل میں سے ایک، مذہب ہے- مذہب ثقافت کے اہم مآخذ میں سے ایک ہے- مذہب ایک بہت اہم ذریعہ اور ماخذ ہے- یقینا ایران جیسے مذہبی معاشرے میں جس کی حکومت مذہب کی بنیاد پر ہے اور لوگ دینداری کے قائل ہیں، قدرتی طور پر مذہب کے عنصر کی بڑی اہمیت ہے- بعض معاشروں میں ثقافت اور مذہبی سماج  کو معادل کہاجاسکتاہے- فی الواقع ثقافت وہی کام ہے جو لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں مذہب کے ذریعہ کرتے ہیں، کیونکہ مذہب زندگی کے راستے کی نشاندہی کرتی ہے-  مذہب وہ ہے جس سے ہم رہتے ہیں- شریعت، کیسے رہنے کا قانون ہے اسی لیے اگر معاشرے میں وہ زیادہ عام بنے تو ثقافت اور مذہب ایک دوسرے  کے مطابق اور موافق ہوجاتی ہیں-
یقینی طور پر آج ہم ایسے نئے معاشرے میں رہتے ہیں جس میں بہت سے عوامل ثقافت کو متاثر کررہےہیں- مثال کے طور پر نسلی عناصر، قومیت، موسیقی، سینما اور عام طور پر تمام ذرائع ابلاغ، سب کے سب وہ ذرائع ہیں جو ثقافت کو متاثر کرسکتے ہیں اور یہ بھی زیادہ ممکن ہے کہ یہ ثقافتی وسائل اور ذرائع اس مخصوص ثقافتی عنصر یعنی تمایز کو بھی متاثر کرسکیں – مثال کے طور پر جب ہم فرق کے بارے میں بات کرتے ہیں تو، ایرانی سینما سے ہالی وڈسینما بالکل مختلف ہے- کم از کم اس سینما کو ایرانی جاناجاتاہے جو فرق  اور تمایز کے عنصر پر مشتمل ہونے کی خاطر، دنیا کے دوسرے سینماؤں سے بالکل الگ ہے- یا اس آرٹ کو ایرانی آرٹ کہتے ہیں جس میں مخصوص ایرانی عنصر موجود ہوتاہے-  
مجھے ایسا لگتاہے کہ 38 برسوں کے بعد اب اسلامی انقلاب کا دور بلوغت پہنچ چکاہے- میں یہ سمجھتاہوں کہ آئندہ دہائی، اسلامی انقلاب  کے اهداف کے حتمی حصول اور اس کی ادارہ سازی کی دہائی ہے کیونکه یہ ایک ایسا راستہ ہے جسے ہم اب تک آزمائش اور غلطی کے ساتھ آ چکے ہیں، لیکن یہ دہائی ایک ایسی دہائی ہے جس میں ہم اسلامی انقلاب کے معماروں کے خیالات میں زیادہ تجربات اور بلوغت محسوس کرتے ہیں اور گزشتہ چار دہائیوں میں لوگ  نے خود بھی ذہنی ترقی کے کئی منازل طے کرلیےہیں- اسی لیے سماجی انصاف کے عمل اور اسلامی اقدار کے قیام کےلئے سماجی مطالبہ بھی اٹھ گیاہے اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری زیادہ متحرک دہائی،اگلی دہائی ہوگی-انشااللہ
 
 
كد خبر تصويري:9117
منبع خبر :ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کا اردو سائٹ سینٹر
تاريخ خبر:2019/01/30