ہم سے رابطہ کیجیئے    پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   فارسي   انگليسي   العربيه  

ایران اور اسلام کے ثقافتی مشاہیر



ابن اَبّار

ابوعبداللہ محمد بن عبدالله قُضاعی، ابن اَبّار سے مشہور، (595-658) ہجری قمری کے اندلسی ادیب، كاتب، تاریخداں اور محدث تھے جو سیاسی سرگرمیوں میں بھی زیادہ مصروفیت رکھتے تھے- ابن ابار ایک اعلی سائنسی پوزیشن رکھتے تھے- شعر و شاعری میں ایک نازک مزاج کے مالک تھے- ان کی تصانیف یہ ہیں: اِعتاب الكتّاب؛ تحفہ القادم؛ دُرَرُ السِمط؛ التكملہ لكتاب الصلہ؛ الحلہ السِيَراء؛ الغصونُ اليانعہ؛ مظاہرَہ المَس�%

شاہ داعى شيرازى

سيد نظام‌الدين محمود بن حسن حسنى جن کا لقب داعى الى ‌‌الله تھا، شاہ داعى سے مشہور اور نویں صدی ہجری قمری کے واعظ اور شاعر تھے- شاہ داعى ایک ایسے عارف اور شاعر تھے جو فلسفہ اور علم کلام میں بھی دستگاہ رکھتے تھے- ان کی بعض تصانیف یہ ہیں: كميليّہ؛ محاضر السَير؛ معرفہ النفس؛ رسالہ تينيّہ؛ رسالہ شجريّہ؛ خيرالزاد؛ رسالہ شيخ محى الدين کا ترجمہ-

حسين مير كلنگى

ميرحسين حسينی، ميركلنگى سے مشہور اور دسویں صدی ہجری قمری کے خطاط تھے- ميـركلنگى، مير على ہروى کے سات ممتاز شاگردوں میں سے ایک تھے- بعض لوگ ميركلنگى کو ان کے استاد کے ساتھ برابر جانتے ہیں؛ کیونکہ ان کے آثار سے بھی جو ابھی تک باقی رہ گئے ہیں معلوم ہے کہ اہمیت کے حساب سے میرعلی کے آثار سے کم نہیں ہیں- گلستان سعدى کے ایک نسخے کی خطاطی ان کے شاہکار آثار میں سے ایک ہے-