ہم سے رابطہ کیجیئے    پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   فارسي   انگليسي   العربيه  

ایران اور اسلام کے ثقافتی مشاہیر



ابوالحسن بِقاعى

ابوالحسن ابراہيم بن عمر بقاعى جن کو برہان الدين لقب دیے تھے، (809-885) ہجری قمری کے شافعی محدث، مفسر اور تاریخداں تھے- ان کی بعض تصانیف یہ ہیں: قرآن کی ایک تفسیر؛ تحذير العباد (من اہل العناد) ببدعہ الاتحاد؛ تہديم الاركان من ليس؛ جواہر البحار؛ اِظہار العصر لاِسرار اہل العصر؛ عنوان الزمان؛ اِشعار الواعى باَشعار البقاعى-

عبدالرزاق‌ بيگ دُنبُلى

عبد الرزاق بيگ جو "مفتون" تخلص کرتے تھے، فتحعلی شاہ قاجار کے عہد حکومت سے متعلق نامور شاعر، اديب، مفسر، تاریخداں، اور مترجم تھے- یہ تصانیف ان کی ہیں: حدائق الجنان؛ تجربہ الاحرار و تسليہ الابرار؛ روضہ الآداب و جنہ الالباب؛ حقايق الانوار؛ حدائق الادبا؛ نگارستان دارا؛ جامع خاقانى؛ شرح ملاصدرا؛ مثنوى ناز و نياز؛ مثنوى ہمايون نامہ؛ مختارنامہ-

نظام‌الدولہ مراغہ‌ اى

محمد حسين خان مقدم مراغہ ‌اى، نظام‌ الدولہ مراغہ‌اى سے مشہور، اور قاجاريہ دور کے سیاستداں تھے- محمد حسين خان، فتحعلى‌ شاه، محمدشاه اور ناصرالدين‌ شاه جیسے حکام کے عہد حکومت میں خدمت کرتے تھے- وہ دو پہلے مذکورہ حکام کے عہد حکومت میں اہم اور سرکاری عہدوں میں مصروف تھے اور ایران و روس کی جنگ کے دوران بھی ایرانی فوج کے کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیں-