ہم سے رابطہ کیجیئے    پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   فارسي   انگليسي   العربيه  


ابن بَطوطہ

ابو عبداللہ محمد لواتى طنجى، ابن بطوطہ سے مشہور(703-779) ہجری قمری کے نامور مراکشی سیاح تھے- انہوں نے اپنے سفر کا بائیس برس کی عمر میں حج جانے کےلئے طنجہ سے آغاز کیا- یہ سفر 25 برسوں تک جاری ہونے کے بعد انجام پایا- انہوں نے اپنے واقعات سفر کو ابن جزی کےلیے بیان کیا تا کہ اس کی بنا پر ایک سفرنامہ لکھا جائے- ان کی بعض تصانیف یہ ہیں: سفرنامہ ابن بطوطہ؛ تحفہ النظّار-

ابوالحسن على بن بندار

على بن بندار صوفى صيرفى، تیسری اور چوتھی صدی ہجری قمری میں ایران کے شہر نیشابور کے یزرگوں میں سے ایک تھے- ابوالحسن "پير پيران" اور "آفتاب مريدان" کے القاب سے نوازے گئے ہیں- انہوں نے بہت سی احادیث کو یاد کیا تھا اور حدیث روایت کرنے میں زیادہ ثقہ اور قابل اعتماد تھے- طریقہ ملامتیہ کے بزرگوں سے مصاحبت رکھتے تھے- ابو عبداللّه خفيف شيرازى اور جنيد بغدادى کے ہم عصر تھے اور ان کی نگاہ میں بھی صیرفی زیادہ مقبول اور قابل اعتماد راوی تھے-

محمد على نور عليشاہ

محمد على اصفہانى جن کو نور عليشاه لقب دیے تھے اور وہ "نور" اور "نور على" تخلص کرتے تھے، بارہویں اور تیرہویں صدی ہجری قمری کے عارف، شاعر اور صوفی تھے- نور علیشاہ شاعری بھی کرتے تھے- ان کے اشعار ایران کی تصوف میں ایک نئی روح پھونک دی- یہ تصانیف ان کی ہیں: رسالہ جامع الاسرار؛ رسالہ اسرار القلوب و رسالہ موعظہ و پند؛ روضہ الشہدا-