ہم سے رابطہ کیجیئے    پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   فارسي   انگليسي   العربيه  

ایران اور اسلام کے ثقافتی مشاہیر



ابن دُقْماق

صارم‌الدين ابراہيم بن محمد آيدَمر العلائى، آٹھویں اور نویں صدی ہجری قمری میں مصر کے مورخ تھے- ان کے اقوال، اس وقت اور اس کے بعد صدیوں کے مصنفوں اور تاریخدانوں کے لیے ثقہ تھے- ان کی بعض تصانیف یہ ہیں: الانتصار لواسطہ العَقدالامصار؛ نزہہ الانام؛ الجوہر الثمين؛ نظم الجمان؛ ترجمان الزمان؛ فرائد الفوائد؛

ابوالحسن طبرى

ابوالحسن احمد بن محمد طبرى، چوتھی صدی ہجری قمری کے ایرانی سائنسداں اور فزیشن تھے- طب العین میں ان کو وسیع تجربات اور نئے خیالات تھے اور عباسی حکومت کے شہنشاہ ابوعبداللہ بریدی اور اس کے بعد بھی رکن الدولہ دیلمی کی دربار اور ان کے مقربین کے مخصوص طبیب تھے- ان کی بعض تصانیف یہ ہیں: المعالجہ البقراطيہ؛ علاج الاطفال؛ كتاب الفَصْد؛

مہرعلى نقاش‌باشى

مہر علی نقّاش باشی، تیرہویں صدی ہجری قمری اور فتحعلی شاہ قاجار کے عہد حکومت میں ایران کے مصور، پورٹریٹ کے ماہر اور خطاط تھے- تیل کی پینٹینگ میں ماسٹر تھے، مگر کتابوں کے کور بنانے، قلمداں (Penner) بنانے، پانی کے رنگ اور سیاہ قلم کی پینٹنگ میں بھی ان کو مہارت تھی- وہ "تخت مرمر" کے پورچ (تہران کے گلستان محل کی سب سے پرانی یادگار) میں فتح علی شاہ کی ایک آئل پینٹینگ کے خالق ہیں-