ہم سے رابطہ کیجیئے    پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   فارسي   انگليسي   العربيه  

ایران اور اسلام کے ثقافتی مشاہیر



اسحاق بن حسین

اسحاق بن حسين، چوتھی اور پانچویں صدی ہجری قمری میں جغرافیہ کے میدان میں تصنیفی کام اور خدمات انجام دیتے تھے- ان کی ایک کتاب کا عنوان" آکام المرجان فی اوصاف المدائن المشہورہ فی کل مکان" ہے جن میں مختصر طور پر بلاد اسلامیہ کے مشہور شہروں کے بارے میں کچھ لکھاگیاہے اور بعض دوسرے علاقوں کے بارے میں بھی ہے جو بالاخر بلاد خزر اور بلاد ترک کی توصیف سے ختم ہوجاتی ہے-

شُہدہ دينِوَرى

شہدہ دينورى، "فخر النساء"، شہدہ الکاتبہ" اور "مسندہ العراق" کے القاب سے مشہور، پانچویں اور چھٹی صدی ہجری قمری کے ایرانی عالم، محدث، مسند، زاہد اور کیلیگرافر تھے- شہدہ ایک مومنہ، عابدہ، زاہدہ اور صالحہ خاتون تھیں جنہوں نے بہت سے ماہرین حدیث سے فیض حاصل کرتے ہوئے ان سے حدیث سنی اور ان کی روایت کرنے کی اجازت بھی اخذ کرلی-

سلطان على قاينى

سلطان على قاينى، نویں اور دسویں صدی ہجری قمری میں سلطان یعقوب آق قویونلو، رستم بن بایسنقر اور سلطان حسین بایقرا جیسے حکما کے دربار سے وابستہ ایرانی عظیم شاعر اور خطاط تھے- نستعلیق، نسخ اور رقاع کے خطوط میں خوبصورتی سے لکھتے تھے- شاعری بھی کرتے تھے اور ان کے بعض اشعار تو اب بھی دستیاب ہیں جو خود انھیں کی ہینڈ رائٹنگ میں ہیں- "دیوان جامی" کو انہوں نے خطاطی کی ہے-