ہم سے رابطہ کیجیئے    پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   فارسي   انگليسي   العربيه  

ایران اور اسلام کے ثقافتی مشاہیر



ابومَعشَر بلخى

جعفر بن محمد، تیسری صدی ہجری قمری کے نامور ماہر فلکیات تھے- وہ فلکیات کی سائنس کی حقیقت کا فلسفہ "حُرّانی" کی مدد سے ثبوت دینے میں زیادہ کوشش کرتے تھے- ابومعشر اپنی تصانیف میں سائنسی میدان میں ایرانی قوم کی فوقیت کے قائل تھے اور انہوں نے مختلف علوم کے تحفظ کےراستے میں ایرانی قوم کی خاص توجہ اور دلچسپی کی طرف بھی اشارہ کیاہے- ان کی تصانیف مندرجہ ذیل ہیں: زيج الہزارات؛ زيج القرانات و الاحتراقات؛ المدخل الكبير؛ المدخل الصغير؛ السہام؛

محمد بن ايوب طبرى

ابوجعفر محمد بن ايوب طبرى، پانچویں صدی ہجری قمری میں سلجوقیان کے عہد حکومت کے ابتدائی دور میں فلکیات اور میتہ میٹھک کے ماہر تھے جن کا لقب "حاسب" تھا- انہوں نے فارسی زبان اور سائنسی میدان میں بہت سی تصانیف کے مصنف ہیں اور اس لحاظ سے انہیں اس وقت کے بے مثال مصنف جانا جاتاہے- ان کی بعض تصانیف یہ ہیں: شمارنامہ؛ مفتاح المعاملات؛ العمل و الالقاب؛ المونس؛ زيج مفرد؛

عبداللّہ يافعى

عبداللّہ بن اسعد بن علی تميمى يافعى مكّى، (699-755/768) ہجری قمری کے شافعی عدنی شاعر، ہسٹورین، محقق اور علم کلام کے ماہر تھے- شاعری میں مہارت رکھتے تھے اور انہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی منقبت میں قصائد لکھے تھے- اصول دین، تفسیر، تصوف اور تاریخ میں انمول تصانیف کے مصنف ہیں- یہ تصانیف ان کی ہیں: رَوْض الرّياحين؛ خلاصہ المفاخر؛ مرآة الجنان؛