ہم سے رابطہ کیجیئے    پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   فارسي   انگليسي   العربيه  

ایران اور اسلام کے ثقافتی مشاہیر



ابن قـُتَيْبہ

ابو محمد عبداللہ بن مسلم، "ابن قتیبہ دينورى" دوسری اور تیسری صدی ہجری قمری کے عظیم سائنسداں، محدث اور ہسٹورین تھے- ستائیس سال کی عمر میں انہیں دینور کا جج مقرر کیا گیا- ادب میں وہ ایک عظیم اور شاندار شخصیت ہیں مگر عقائد اور قرآںی سائنسوں کے میدان میں ان کی تنقید کی گئی ہے- ان کی بعض تصانیف مندرجہ ذیل ہیں: ادب الكاتب؛ معارف؛ عيون الاخبار؛ المعارف؛ معانى الشعر؛ الميسر و القداح؛

ديلمى عبدالرشيد

عبدالرشيد ديلمى، ایران میں صفویہ دور کے شاعر اور کیلیگرافر تھے جو "رشیدا" تخلص کرتے تھے- اصفہان میں شاہ عباس صفوی کے دربار کے عظیم خطاط "میر عماد قزوینی" کے شاگردوں اور قریبی رشتہ داروں میں سے ایک (میرعماد کے بھتیجے) تھے- ان کی ہم عصر شخصیات نے ان کی زیادہ تعریف و تمجید کی ہے- ہندوستان کے تذکرہ نگاروں نے انہیں اس وقت کے سب سے عظیم خطاط جانتے ہوئے خطاطی کے مختلف فونٹز میں ان کی مہارت کو سراہاہے-

كريمہ مَروَزى

((365-463 ہجری قمری میں ایران کے شہر خراسان کی خاتون سائنسداں، کاتب، حافظ قرآن اور محدث تھیں- کریمہ ایک متقی، سمجھدار اور مومنہ خاتون تھیں جن سے تاریخ اور حدیث کے بہت سے اکابرین نے روایت نقل کی ہے- حدیث روایت کرنے میں ان کا رویہ ایسا تھا کہ ہر ایک حدیث کی مطابقت پذیری کو اس کے اصل نسخے سے جائزہ لے کر روایت کرتی تھیں- کریمہ صاحب سو سال کی عمر پائی اور بالاخر "کلّہ" نامی گاؤں میں انتقال کرگئیں-