ہم سے رابطہ کیجیئے    پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   فارسي   انگليسي   العربيه  


آزاد بِلْگرامى

ميرغلام على بن نوح حسينى واسطى، "آزاد" کے نام سے مشہور، ((1116-1200 ہجری قمری میں ہندوستان کے فارسی گو شاعر، عارف اور ہسٹورین تھے جنہوں نے فارسی، عربی اور اردو نظم اور نثر میں بہت سی قیمتی تصانیف چھوڑی ہیں- ان کی بعض تصانیف مندرجہ ذیل ہیں: ندالسعادات؛ روضہ الاولياء؛ شجرہ طيّبہ؛ غزلان الہند؛ مآثرالكرام؛ سرو آزاد؛ خزانہ عامره؛ ديوان اشعار آزاد؛

بَنو اَماجور

ابوالقاسم عبداللہ بن اَماجور تُركى اور ان کے بیٹے ابوالحسن على، دوسری اور تیسری صدی ہجری قمری میں علم فلکیات کے ماہر تہے- انہوں نے گھومتے ہوئے جسم کے محور (axis) کی سمت (direction) میں تبدیلی کے عمل(axial precession) کا جائزہ لیتے ہوئے اسے سو سال کے عرصے میں ایک ڈگری کے طور پر شمار کیا- انہوں نے سورج کا مشاہدہ کرتے ہوئے ان کی مداری خصوصیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں- انہوں نے نئے نئے اعداد و شمار اور ڈیٹا کی بنیاد پر ایتھوپیا کے چارٹز کی اصلاح کرنے کی کوششیں کیں-

لامِعى گرگانى

ابوالحسن بن محمد، پانچویں صدی ہجری قمری کے ایرانی فارسی گو شاعر تھے جو "لامعی" تخلص کرتے تھے- لامعی عربی الفاظ اور تراکیب کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرتے تھے، اسی لیے بغداد اور دمشق کے شہروں میں ان کی زیادہ شہرت تھی- اس وقت کے بہت سے شعرا نے ان کی پیروی کی- وہ "دیوان لامعی" کے مصنف ہیں-