ہم سے رابطہ کیجیئے    پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   فارسي   انگليسي   العربيه  

ایران اور اسلام کے ثقافتی مشاہیر



ابن قلانسی

ابو علی حمزہ بن اسد بن علی بن محمد تمیمی، جنہیں "الرئیس الرجل" لقب دیا گیا تھا، ابن قلانسی کے نام سے مشہور، چھٹی صدی ہجری قمری کے ہسٹورین، ادیب اور دمشقی دیوان سالار " بیوروکریٹ افسر" تھے- انہوں نے دمشق کے دیوان انشا(جہاں سے سرکاری خطوط خاص طور پر خلیفہ مسلمین کے حکمنامے کو عالم اسلام کے دوسرے مسلم ممالک تک پہنچایا جاتاہے) میں بھی ایک عہدہ رکھتے تھے- دمشق کے عالم، ادیب اور بڑے خاندان کے مالک تھے- جہاں تک کہ ان کے بعض معاصر شعرا نے بھی ان کی تعریف و تمجید کی ہے- " مذیّل التاریخ الدمشقی" ان کی تصنیف ہے-

عبدالرزاق سمرقندى

كمال‌الدين عبدالرزاق سمرقندى (816- 887) ہجری قمری کے ایرانی ہسٹورین تھے- وہ تاریخ نگاری میں چشم دید واقعات یا قابل اعتماد لوگوں سے سنائے گئے واقعات کو لکھتے تھے- ان کا اسلوب نگارش، اس زمانے کے دوسرے مصنفین کے اسلوب کی طرح ٹھورا سا مشکل مگر پڑھنے کے قابل اور روان ہے- "مطلع‌السعدين و مجمع‌الرحمين" ان کی تصنیف ہے-

نصرالله منشى

ابوالمعالى نصرالله بن محمد مشیب، بهرام‌شاه غزنوی کے شیرازی منشی، چھٹی صدی ہجری قمری کے فارسی زبان مصنف اور عربی سے فارسی میں ترجمہ کرنے کے کام میں بھی مصروف تھے- فارسی میں کلیلہ و دمنہ کا ترجمہ ان کی شاہکار ہے- ان کی کتاب، نثر فارسی میں خوبصورتی اور بلاغت کی ایک اچھی مثال ہے- ان کے بہت کم اشعار باقی رہ گئے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں: فارسی میں تین رباعی اور عربی قصائد سے دو اشعار جو کلیلہ و دمنہ میں ان کا ذکر کیا گیا ہے-