ہم سے رابطہ کیجیئے    پہلا صفحہ   سائیٹ کا نقشہ   فارسي   انگليسي   العربيه  

ایران اور اسلام کے ثقافتی مشاہیر



ابوزيد بلخى

ابوزيد احمد بن سہل بلخی، تیسری اور چوتھی صدی ہجری قمری کے اديب، علم کلام اور علم جغرافیہ کے ماہر اور فلسفی تھے- وہ وسیع معلومات رکھنے کی خاطر، حکمرانوں اور علماء کرام کی جانب سے خاص توجہ کا مرکز بن گئے تھے- ان کی بعض تصانیف مندرجہ ذیل ہیں: صور الاقاليم؛ مصالح الابدان و الانفس؛ البدء و التاريخ- "شرايع الاديان؛ اقسام العلوم؛ اختيارات السير" بھی ان کے نام سے منسوب تصانیف ہیں-

سوزنى سمرقندى

شمس الدين ابوبكر سوزنى سمرقندى، پانچویں اور چھٹی صدی ہجری قمری کے عظیم شاعر تھے جن کا لقب تاج‌الشعرا تھا اور "سوزنی" تخلص کرتے تھے- سوزنى، ضرب الامثال، علم لغت اور شاعری میں صنعت کاری اور خیال پروازی کے فن میں مہارت رکھتے تھے اور ان کے دیوان میں ضرب الامثال کی بہتات ہے- ان کے دیوان شعر میں فارسی کے نامانوس اور غیر فصیح فارسی الفاظ زیادہ پائے جاتے ہیں- "دیوان سوزنی سمرقندی" ان کا مجموعہ کلام ہے-

نَزارى قُہستانى

حكيم سعدالدين بن شمس‌الدين نزارى قہستانى، ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری قمری کے عظیم شاعر تھے- نزاری اپنے اشعار میں مادی زندگی کی طرف توجہ کرنے کے ساتھ ساتھ ، مغلیہ حکومت کے ظلم و ستم کا شکار ہونے والے مظلوم عوام کے دکھ درد کو بھی مد نظر رکھتے تھے- جہاں تک کہ انہیں ایک سماجی مصلح شاعر بھی کہا جاسکتاہے- ان کی بعض تصانیف مندرجہ ذیل ہیں: ديوان نزاری؛ نزاری کا سفرنامہ؛ مثنوى اَزہر و مَزہر؛